کیاحضرت امیر معاویہ صحابی رسول ہیں؟؟


             السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

علما۶کرام کے بارگاہ میں ایک سوال ایکشخص نے سوال کیا ہیں۔ کیاحضرت امیر معاویہ صحابی ہیں لوگ ان کو برا بھلا بولتے ہیں۔ قرآن حدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

                 سائل احمد رضا رضوی دُبئـ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

           الجواب اللھم ھدایةالحق والصواب

 بے شک حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل الشان صحابی اور کاتب وحی ہیں جیسا کہ حدیث مشکوة میں ہے جس کے آخر میں حضرت محدث شیخ ولی الدین رازی عبداللہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے حدیث بیان کرنے والے چند صحابہ کی ایک مختصر فہرست شامل کی ہے اس فہرست میں (حرف المیم فصل فی الصحابہ) کا ایک عنوان قائم کیا ہے یعنی اس فصل میں ان صحابہ کا بیان ہے جن کے نام کا پہلا حرف میم ہے (معاویہ ودیگر)اس عنوان کے نیچے حضرت محدث دہلوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں معاویة بن ابی سفیان القرشی الاموی کان ھووابوہ من مسلمة الفتح وھواحدالذین کتبوالرسول اللہ ﷺ وروی عنہ ابن عباس وابوسعیدرضی اللہ عنہ/ یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خاندان قریش قبیلہ بنی امیہ میں سے ہیں آپ اور آپ کے والد ماجد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوکر نبی کریمﷺکی غلامی میں داخل ہوئے آپ بارگاہ رسالت کےکاتب وحی بھی تھے- حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنھم نےآپ سے نبی کریمﷺ کی حدیثیں سنی ہیں اس حوالے سے دن دوپہر کی طرح خوب واضح ہو گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی وسلم کے صحابی ہیں اور حضور کے دربار کے کاتب وحی بھی ہیں حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو صحابی رسولﷺمان کر ان سے نبی کریم ﷺکی حدیثیں سنی اور قبول کی ہیںاور اللہ تعالی اپنے نبی کے صحابہ کے متعلق اعلان فرماتا ہےوکلاوعداللہ الحسنیٰ اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کے تمام صحابہ سے خیر کا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ فرما لیا ہے(پارہ 27س حدید)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حقوق بیان کرنے کے سلسلے میں فرماتے ہیںاذارایتم الذین یسبون اصحابی فقولوالعنةاللہ علی شرکم (مشکوة)اے مسلمانو جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابیوں کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے برملا کہہ دو کہ تمہاری بدگوئی پر خدا کی پھٹکار پڑےیہ حقوق تو عام صحابیوں کے ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر فقیہ صحابی ہیں ان کے حقوق تو اور زیادہ ہیںفتاوی فیض الرسول جلداول صفحہ 78تا79) الحاصل قرآن واحادیث کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ جلیل القدر صحابی ہیں اب اگر کوئی بدبخت ودلہ رافضیت ظالم گمراہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے تو ایسا شخص ناری ہے جہنمی ہے ایسے شخص کا سماجی بائیکاٹ کرنا چاہیے اس کے یہاں آناجانا دعا سلام کلام سب بند کرنا چاہیے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے

عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے