بیوٹی پالر کی دکان چلانا کیسا ہے



                السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 بعدہٗ سلام کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو فٹاکے گولہ وغیرہ بناتا ہے اوراس کا کاروبار بھی کرتا ہے کیا یہ کاروبار کرناجائز ہےکہ نہیں اور ایک لڑکی بیوٹی پارلر چلاتی ہے جس میں صرف عورتیں ہی آتی ہیں کیا یہ جائز ہے کہ نہیں کرم فرمائیں مفصل جواب عنایت فرمائیں

             محمد ریاض الدین برکاتی سیتاپوری
۔....................................................................
             وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

صورت مسئولہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ آتشبازی پٹاخا بنانا اس کا بیچنا اس کا خریدنا اور خریدوانا اس کا چلانا یا چلوانا سب حرام ہے (اسلامی زندگی صفحہ 76) پٹاخا بیچنا حرام ہے تو بلاشبہ اس سے حاصل شدہ رقم بھی حرام ہوگی (ضیاءشریعت جلد اول صفحہ15) پٹاخا کی تجارت (کاروبار) کرنا جائز نہیں کہ آتشبازی حرام ہے (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ 237تا 241)( بیوٹی پارلر کا کاروبار کرنا جائز ہے شرعاً اس کے ناجائز ہونے کی کوئ دلیل نہیں ہے مگر اس میں خیال رکھا جائے گا کہ اگر بیوٹی پارلر میں خواتین کام کرنے والی ہوں اور فقط خواتین ہی بناؤ سنگھار کیلئے آئیں دلہن کو تیار کریں یا میک اپ کروانے آئیں تو ٹھیک ہے یعنی پارلر میں کام کرنے والی بھی خواتین ہوں اور میک اپ وغیرہ کیلئے بھی صرف خواتین آئیں تو جائز ہے بشرطیکہ بھؤں وغیرہ کو نوچنا باریک کرنا وغیرہ نہ پایا جائے کہ یہ تغیر خلق اللہ ہے اور حدیث شریف میں اسکی ممانعت آئی ہے بلکہ ایسی عورتوں پر لعنت فرمایا. 

                    واللہ اعلم باالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمد ریحان رضا رضوی فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیا 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے