3.31.2020

مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا کیسا ہے؟


             اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ اگر زید دوسری رکعت میں جماعت میں شامل ہوا اور امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیا۔ اس صورت میں زید کو کیا کرنا چاہیے تھا۔کیا اسی وقت کھڑا ہو جاتا اور اپنی پہلی رکعت مکمل کرتا۔ یا پھر نماز دوبارہ پڑھ لیتا۔برائے مہربانی جواب دے کر شکریہ کا موقع حاصل کریں۔جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں

 سائل محمد سفیان رضا مقام فیصل آباد پنجاب پاکستان
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

           الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب

مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائزنہیں اگرقصدا پھیریگا نمازجاتی رھے گی ۔اور اگر سہوا پھیرا اور سلام امام کے ساتھ معاً بلا وقفہ تھا تو اس پر سجدہ سہو نہیں اوراگر سلام امام کے کچھ بھی بعد پھیرا تو کھڑاھوجاۓ اپنی نماز پوری کرے سجدہ سہو کرے ۔بحوالہ (درمختار وغیرہ )زیدجب دوسری رکعت میں شامل ہواتھااورسہوا امام کےساتھ سلام پھیردیا تو اب اس کو چاہئے کہ سلام کےبعدفورابغیرکلام کیےکھڑاہوجائےباقی رکعت کوپوراکرےاورآخرمیں سجدہ سہوکرلےنمازہوجائےگی.(بہار شریعت سجدہ سہو کا بیان)اوراگرسلام کےبعدفوراکھڑانہ ہوابلکہ لوگوں سےکلام کرلیاتواب دوبارہ نماز پڑھے سجدہ سہوکافی نہ ہوگا.(بہار شریعت جلداول حصہ چہارم صفحہ ٥٤ سجدہ سہو کا بیان)

                  واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

            کتبہ محمد افسر رضا سعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only