3.16.2020

ویڈیو کال سے نکاح کا شرعی حکم؟؟؟


              السلام علیكم ورحمةاللہ بر كاتہ 

بعد سلام كيافرماتے ہیں علمائےكرام مسئلہ ذیل میں موجودہ وقت میں اگر فون پر ویڈیو كال كركے امام صاحب زيد اور هنده كا نكاح كرائیں تو ہوگا یا نہیں مدلل جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔کرم ہوگا   

        سائل محمد حسنین اختر نگہاسن كہیری.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ

             الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

اسی طرح کے مسئلے میں مفتی نظام الدین صاحب قبلہ تحریر فاماتے ہیں کہ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر اگر چہ قاضی اور شاھدین کی صورت میں نظر آئے مگر اس میں لی گئی شھادت حقیقت شھادت نہیں ہے شہادت کا لغوی معنی حاضر یہاں شاھد مجلس قضاء میں حاضر نہیں بلکہ وہاں سے بہت دور اور غائب ہے یہ الگ بات ہے کہ مشین سے اسکا عکس نظر آ رہا ہے یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ شاھد شخص کا شہودو حضور قطعاً نہیں ہو سکتا اس لئے انٹر نیٹ لیپ ٹاپ پر شہادت کے کلمات ادا کرنے کی شرعی حیثیت محض خبر ہے شہادت نہیں اگر لڑکی نے قاضی کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا مثلاً یہ کہدیا کہ فلاں بن فلاں کے ساتھ میرا نکاح کروا دو اور قاضی نے گواہوں کے رو برو اس لڑکی کا نکاح معین لڑکے کے ساتھ کر دیا اور اس منظر کو انٹرنیٹ پر دکھایا گیا تو نکاح شرعاً درست ہے بغیر انٹرنیٹ کے بھی اس طرح نکاح کیا جاتا ہے

(بحوالہ ماخوذ از محقق مسائل جدیدہ صفحہ نمبر 131)

            واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام  سنّی جامع مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only