اگر کسی نے زائد زکوٰۃ نکال دی تو کیا وہ اگلے سال کم نکالے گا؟


           السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکا تہ

(1) بینکوں میں فکس کۓ گۓ روپے پر بھی رکوۃ ہے کیا ؟(2) اگر کسی کے اوپر (1000)ایک ہزار روپے زکوۃ فرض تھی اور غلطی سے(2000)ہزار روپے کی زکوۃ نکال دیاب ایسی صورت میں آئندہ سال اس زیادہ نکالی گئی رقم کو حساب میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی 

      محمد شہزاد عالم گانوں گریڑہیہ جھار کھنڈ
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
       وعليكم السلام و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ

                 الجواب بعون الملک الوھاب

(۰۱)اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں جیساکہ صاحب فتاوی فیض الرسول اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا کچھ مال ان کے پاس ہی موجود ہو اور کچھ مال بینک میں جمع ہو تو اس شخص کے دونوں مال پر زکوٰۃ فرض ہے یعنی جو مال اس کے پاس موجود ہے اس پر بھی اور جو مال اس نے بینک میں جمع کیا ہے اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔(فتاویٰ فیض الرسول جلد اوّل صفحہ نمبر ۴۷۴)(۰۲)اور صورت مسؤلہ میں جیساکہ فقیہ اعظم ھند حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ اپنی کتاب مشہور زمانہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ گمان کرکے کہ (اس کے پاس) پانچ سو روپے ہیں، تو وہ پانچ سو روپے کی زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ اس کے پاس پانچ سو نہیں بلکہ صرف چار ہی سو روپے تھے تو اب جو زیادہ روپے اس نے دیا ہے وہ مال وہ شخص سال آئندہ میں محسوب کرسکتا ہے۔(بہار شریعت جلد اوّل حصہ پنجم صفحہ ۸۹۱) لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے پہلی صورت میں یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ اگر کوئی شخص اپنا مال بینک میں بھی جمع کیا ہو پھر بھی اس پر زکوٰۃ فرض ہے اگر نہیں دے گا تو سخت گنہگا ہوگا۔اور ساتھ ہی ساتھ دوسری صورت میں بھی یہ صاف روشن ہوگیا کہ اگر کوئی شخص یہ گمان کرکے زکوٰۃ کی ادائیگی کردی کہ میرے پاس دو ہزار روپے ہیں اور جب بعد میں اس نے دیکھا اور غور کیا تو اس کے پاس ایک ہی ہزار روپے تھے تو ایسی صورت میں وہ جو زیادہ مال کا زکوٰۃ دے دیا ہے وہ اس کا سال آئندہ میں محسوب ہو سکتا ہے۔

         واللّٰہ تعالیٰ و رسولہ ﷺ اعلم بالصواب

محمّد مکّی رضا خان قادری نظامی مہسوتھوی سیتامڑھی بہار۔ رابطہ نمبر 91351719174

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے