جو شخص روزہ نہ رکھیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟؟

              السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص روزہ نہ رکھیں اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے تفصیلی بخش جواب عنایت فرما دیں برائے کرم

             سائل محمد تبریز عالم دہلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 الجواب بعون ملک الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب  

جو مسلمان رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھے اور بلا عذر اعلانیہ دن میں کھائے پیئے وہ دین کا مذاق اڑانے والا مرتد ہے اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے اور اگر اس کا روزہ نہ رکھنا اور اعلانیہ کھانا پینا مذاق اڑانے اور انکار کرنے کے طور پر نہ ہو تو اگرچہ اس کا یہ فعل سخت گناہ کبیرہ اور کافروں جیسا ہے لیکن اس کے سبب وہ اسلام سے خارج نہ ہوگا ناہی اس کا ذبیحہ حرام ہوگا البتہ اسلامی حکومت میں ایسے شخص کے لئے سخت سزا ہے مرقاة شرح مشکوة ملا علی قاری جلد ہفتم ص ١٨٦ میں ہے ان علی رضی اللہ عنہ اتی بالنجاشی الشاعر وقد شرب الخمر فی رمضان فضربہ ثمانین ثم ضربہ من الغد عشرین وقال ضربناک بعشرین بجراتک علی اللہ تعالی وافطارک فی رمضاناور بحر الرائق جلد پنچم ص ٤٦ پر ہے المفطر فی نھار رمضان یعزر و یحبس ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص ٣٤٥ کتاب الصوم لھذا جو شخص روزہ نہ رکھے وہ بہت بڑا مجرم شرع ہے اگر اسلامی حکومت ہو تو ایسے شخص کو سزا دی جائے گی اور ایسا کرنا گناہ عظیم ہے اور اگر اسلامی حکومت نہ ہو جیسے کی ہندو پاک تو ایسے شخص کو سمجھایا جائے نہ مانے تو اس کو اپنے دل میں برا سمجھا جائے کیوں کہ امر باالمعروف والنھی عن المنکر کے جو تین درجے ہیں تیوں میں اگر دو پر استطاعت رکھتے ہیں تو اس پر عمل کریں دور حاضرہ میں پہلے پر عمل کرنا مشکل ہے لھذا دوسری صورت پر عمل کیا جائے پھر اگر نہ مانے تو آخری صورت پر عمل پیرا رہیں اور وہ ہے دل میں برا سمجھنا ایسے شخص کو

               واللہ تعالی اعلم باالصواب

 انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے