نماز میں بھول کر تیسری رکعت میں بیٹھ گیا تو کیا حکم ہے


           السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

 بعدۂ عرض یہ ہے کہ امام صاحب نماز عصر میں بھول کر تیسری رکعت میں بیٹھ گئے تشہد پڑھنے کے بعد یاد آیا کھڑے ہوکر چوتھی رکعت پوری کرنے کے بعد سجدہ سہو کر لیا تو کیا نماز ہوئی یا نہیں ؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں نوازش ہوگی؛ 

 سائل محمد ابراہیم حمیدی روڈ شکرتالاب بنارس
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
        وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

            الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں نماز ہو گئی جیسا کہ عام کتب فقہ میں ہیکہ اگر امام بھول کر پہلی یا تیسری رکعت میں (بقدر تین بار سبحان الله )بیٹھ گیا سجدہ سہو لازم آٸیگا سجدہ سہو سے نماز ہوجائے گی؛ اگر جان بوجھ کر پہلی یا تیسری رکعت میں بیٹھ گیا تو سجدہ سہو سے کام نہیں چلے گا اعادہ واجب ہے _(عامہ کتب فقہ )اور مفتی اعظم مہاراشٹر خلیفہ سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف صاحب مدظلہ العالی النورانی اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں فتاوی عالمگیری کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " کوئی شخص پہلی یا تیسری رکعت میں بھول کر بیٹھ گیا اور تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے کم بیٹھ کر اٹھا تو سجدہ سہو واجب نہیں ہے اور اگر تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار تاخیر کرکے اٹھا تو سجدہ سہو واجب ہے( مسائل سجدہ سہو صفحہ 86)

               واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبــــــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ منگلور کرناٹک انڈیا ۱۷/ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری ۱۱/ مئی ۰۲۰۲؁ عیسوی بروز سوموار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے