فاصلے سے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا کیسا ہے ؟؟؟


           السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔

سوال ابھی جو وبا پھیلی ہوئی ہے اسکی وجہ سے کیا نماز میں تھوڑا فاصلہ کرکے کھڑے ہو سکتے ہیں کہ نہیں ۔اگر کھڑے ہو سکتے ہیں تو کتنا فاصلہ ہونا چاہیے۔شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

           ۔سائل✒عارف رضا کانپوری یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

             الجواب بعون الملك الوھاب

حدیث شریف میں ہے کہامام احمد نے بسند صحیح حضرت امامہ باہلی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں صفیں خوب گھنی رکھو جیسے انگ سے درزیں بھر دیتے ہیں کہ فرجہ (خالی جگہ) رہتا ہے تو اس میں شیطان کھڑا ہو تا ہے۔یعنی جب صف میں جگہ خالی پاتا ہے تو دلوں میں وسوسہ ڈالنے کو گھستا ہے۔امام احمد۔ ابوداؤد۔طبرانی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیںصفیں درست کرو کہ تمہیں تو ملائکہ کی صف بندی چاہئے اور اپنے شانے (کندھے)سب ایک سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے (خالی جگہ) بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اور صف کو وصل کرے (ملائے) اللہ اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے (کاٹے) اللہ اسے کاٹےکسی صف میں فرجہ(خالی جگہ) رکھنا مکروہ تحریمی ہے جب تک اگلی صف پوری نہ کرلیں دوسری صف ہرگز نہ باندھیں۔فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر/318ماخوذ از مومن کی نماز صفحہ نمبر/189صف میں فاصلہ کرکے کھڑے ہونا مکروہ تحریمی ہے نماز واجب الاعادہ ہوگی جیساکہ حوالہ جات سے ظاہر و باہر ہے اور حکومت کی طرف سے جو پابندی عائد کی گئی ہے ایک ایک میٹر کی دوری پر رہا جائے ہم ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں تو ہم اس وقت مجبور نہیں ہیں کہ نماز کے وقت بھی دوری بنائیں بلکہ اس سے بہتر یہ ہے کہ ہم تنہا تنہا نماز پڑھیں

                     واللہ اعلم باالصواب

کتبہ محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند موبائیل فون/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے