شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس کے ذمہ ہے؟؟؟

          السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس کے ذمہ ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
            سائل شمیم رضا بارہ بنکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

           الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

مرد پر صدقۂ فطر نالغ اولاد کی طرف سے واجب ہے جب کہ وہ مالک نصاب نہ ہوں-جیساکہ بہار شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ ۶۷ مطبوعہ قدیم میں ہے کہ:مرد مالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے - جب کہ وہ خود مالک نصاب نہ ہو ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور ہمارے معاشرے میں دستور ہے کہ لڑکی کی شادی بالغ ہونے کے بعد ہی کرتے ہیں - یہاں کہ اگر نابالغ لڑکی شادی کر دی بھی گئی ہے تو بھی باپ پر اس کی جانب سے صدقۂ فطر واجب نہیں -جیسا کہ ایک جگہ صفحہ ۶۸ پر ہے کہ:نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کردیا اور شوہر کے یہاں اسے بھیج دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقۂ فطر واجب نہیں - نہ شوہر پر نہ باپ پر -اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالک نصاب نہ ہو ورنہ بہرحال اس کا صدقہ اس کے مال سے ادا کیا جائے -"(بحوالہ در مختار، ردالمحتار ) 

              واللہ تعالی اعلم باالصواب 

     کتبہ مفتی جعفر علی صدیقی صاحب قبلہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے