کیا تراویح پڑھانے اور سننے والے دونوں کی نیکی برابر رہتی ہیں؟؟؟


          السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

عر ض یہ کہ ترا ویح کی نماز میں قر آن پڑھنے اور سننے والے دونو ں کو برا بر نیکیاں ملتی ہیں یا پڑھنے وا لے کو زیادہ اور سننے والے کو کم یا اس کے بر عکس با حوالہ جواب عنا یت فرما ءیں

        سائل محمد تنویر حسین رضوی کٹیہا ری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 الجواب بعون ملک الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب 

تراویح میں قرآن سننے والے کو بمقابل پڑھنے والے کے زیادہ ثواب ملتا ہے یعنی پڑھنے والے سے زیادہ سننے والے کو ثواب و نیکیاں ملتی ہیں فتاوی فقیہ ملت میں اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ صورت مسئولہ میں زید کا قول صحیح ہے (یعنی سننے والے کو زیادہ ثواب ملتا ہے ) اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن شریف سننا تلاوت کرنے سے افضل ہے بہار شریعت حصہ سوم ص ١٠٤ اور علامہ ابراھیم حلبی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ استمتاع القرآن افضل من تلاوتہیعنی قرآن کا سننا پڑھنے سے افضل ہے غنیہ ص ٢٦٥ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص ٢٠١ 

                واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبہ محمد انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے