چھوٹا قرآن سفر میں اپنے ساتھ لے جانا کیسا ہے


         السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میںچھوٹا قرآن پاک بیگ میں رکھ کر پیٹھ پر لاد کر سفر میں لے جانا کیسا ہے

سائل محمد حسنین رضا پیلی بھیت شریف اتر پردیشممبر آف گروپ یارسول اللہ ﷺ 1️⃣
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     وعليكم السلام و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ

             الجواب بعون الملک الوھاب

 حالت سفر میں القرآن الکریم لے جانے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہیکہ قرآن مجید کو کسی پاک کپڑے یا بیگ میں لپیٹ کر اپنے گلے میں لٹکالے یا مسافروں کے سروں کے اوپر ہلکا سامان رکھنے کیلئے جو خانہ ہوتا ہے اس میں دوسرے سامان کے اوپر رکھ لیں اور اگر اس میں کوئی دشوری ہو تو کپڑے میں لپیٹ کر بیگ میں سامان کے اوپر یا درمیان میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ مجودہ دور میں ہمارے اعمال کا معیار تو بلا شبہ بہت گرا ہوا ہے لیکن قرآن مجید کی توقیر و احترام کے بارے میں بالعموم ہر طبقے کا مسلمان حساس ہوتا ہے۔(تفہیم المسائل جلد اوّل صفحہ نمبر ۴۰۸)لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ صاف روشن ہو گیا کہ اگر کوئی شخص حالت سفر میں قرآن شریف لے جانا چاہے تو وہ لے جاسکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری یہ ہیکہ وہ کسی پاک کپڑا یا بیگ میں لپیٹ کر لے جائے جیساکہ اوپر مذکور ہوا۔اب رہی بات کہ اگر چھوٹا قرآن مجید بیگ میں رکھ کر لے جاسکتا ہے لیکن پیچھے پیٹھ پہ رکھ کر نہیں بلکہ آگے گلے میں لٹکاکر لے جاسکتا ہے اور اس میں بھی پہلے سے کسی پاک کپڑا میں لپیٹے پھر اسے بیگ میں رکھے پھر اس بیگ کو آگے گلے میں لٹکاکر لے جائیں۔ کیونکہ قرآن مجید کا ادب ہر مسلمان پر فرض ہے۔

      واللّٰہ تعالیٰ و رسولہ ﷺ اعلم بالصواب

محمّد مکّی رضا خان قادری نظامی مہسوتھوی سیتامڑھی بہار۔ رابطہ نمبر 9135171974

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے