دوران قرآت چند الفاظ چھوٹ جائیں تو نماز کا کیا حکم ہے

              اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیافرماتے ہیں علما۶کرام اس مسئلہ میں کہ اگر نماز کے اندر قراءت کرتے ہوئے آدھی آیت یا آیت کے چند الفاظ چھوٹ جائیں تو نماز نہیں ہوگی تو کیا یہ حکم نماز تراویح کا بھی ہے حالانکہ اس میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئ حافظ سن نے کے لئے نہیں ہو یا اگر ہو بھی تو اس نے کنفیوزن کی وجہ سے لقمہ نہ دیا ہو یا بتایا نہ تو کیا نماز تراویح درست ہوجاءے گی

    سائل محمد حسنین رضا پیلی بھیت اتر پردیش
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
          وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

                الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسؤلہ میں الفاظ کے گھٹنےیابڑھنےسے یا کسی لفظ کے بدلنے سے یااعراب کی تبدیلیوں کی بنیاد پر یاکسی آیت کےچھوٹ جانے یابڑھنےسے مشددکے مخفف یامخفف کےمشدد، متحرک کےساکن یاساکن کےمتحرک وغیرھم کے ہو جانے سے اگر معنیٰ میں فساد لازم آرہا ہے تب تو نماز نہیں ہوگی اور اگر فساد نہیں ہو رہا ہے تو نماز بلا شبہ ہو جائے گی خواہ وہ نمازتراویح ہویادیگرنمازہو ماخوذفتاویٰ مرکزتربیت افتا۶جلد١صفحہ ٤٣ ھکذافی بہارشریعت حصہ ٣ (قرأت کابیان)حاصل کلام ۔ان حافظ وامام صاحبان سے دوران قرت جو کمی بیشی واقع ہوئی ہے اگر اس نے فساد معنیٰ ہو رہا ہے تب تو نماز نہیں ہوگی ورنہ ہو جائے گی

                واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے