فاسق و معلن کے پیچھے اگر تراویح پڑھ لیا تو کیا دہرانا واجب ہے؟؟؟

              السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر تراویح کی نماز فاسق معلن کے پیچھے پڑھ لئے تو کیا وہ نماز دوہرانی پڑےگی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

   سائل محمد ضیاء الحق مقام بندکی فتح پور الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوری ایک مُشت داڑھی رکھناواجب ہےاورمنڈانایاایک مٹھی سے کم کروانادونوں حرام وگناہ ہیں اورایساکرنے والا فاسقِ مُعلِن ہے اور فاسقِ مُعلِن کوامام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی یعنی پڑھناگناہ ہےاوراگرپڑھ لی ہوتواس کااعادہ واجب ہے۔غُنیۃمیں ہے:”لَوْقَدَّمُوْافَاسِقاً یَأثِمُوْنَ بِنَاءً عَلٰی أَنَّ کَرَاھَۃَ تَقْدِیْمِہٖ کَرَاھَۃٌ تحریمٌ“یعنی اگرکسی فاسق کومقدم کیاتووہ گناہگارہوں گےاس بناء پرکہ فاسق کومقدم کرنامکروہ تحریمی ہے۔ (غنیۃالمستملی،ص513)فتاویٰ رضویہ میں ہے:”داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت ممنوع و گناہ ہے “(فتاویٰ رضویہ،ج 6،ص505 صورت مسئولہ میں نماز واجب الاعادہ ہے یعنی دہرانا واجب ہے

                    .واللہ اعلم بالصواب 

  غیاث الدین قادری دارالعلوم شھیداعظم دولہاپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے