شیعوں کی دی ہوئی چیزیں لینا کیسا ہے


                  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین اس مسںلہ میں کہ اگر کوئ حافظ ایسی جگہ تراویح سناۓ جو که سنّیوں کی مسجد هے اور وهاں سنی بھی ہیں اور شیعہ بھی ہیں اور شیعاؤں کی تعداد بھی سنیوں سے بہت زیادہ عرض یہ ہے کہ اگر کویٔ شیعه اس حافظ کو ختم شریف میں روپیہ پیسہ کپڑا وغیرہ دے تو اس حافظ کو یہ سب لینا کیسا ہے؟؟؟براۓ کرم شریعت کی روشنی میں بحوالہ جواب سے نوازیں آپ کی کرم نوازش ہوگی 

                 سائل محمد عرفان قادری بہار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

ایسی جگہوں پر امامت کرنا درست نہیں ہے جہاں پر غیروں سے ملنا جلنا ہو ان سے سلام و کلام ہو انکی تعظیم ہو خواہ وہ شیعہ ہو یا دیوبندی وہابی یا کوئی بھی فرقہ باطلہ ہو جیسا کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بدمذ ہبوں سے دور رہو اور انھیں اپنے قریب بھی نہ آنے دو وہ تمھیں کہی فتنے میں نہ ڈال دیں اگر وہ بیمار پڑیں تو انکی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو انکے جنازہ میں شریک نہ ہو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام بھی نہ کرو انکے پاس نہ بیٹھوں انکے ساتھ پانی بھی نہ پیو انکے ساتھ کھانا بھی نہ کھاؤ انکے ساتھ شادی بیاہ بھی نہ کرو انکے ساتھ جنازہ بھی نہ پڑھو انکے ساتھ نماز بھی نہ پڑھو(بحوالہ انوار الحدیث صفحہ نمبر 102)اور ہاں اگر ان سے سلام و کلام نہیں کرنا پڑ رہا ہے انکی تعظیم نہیں ہو رہی ہے ان سے ملنا جلنا نہیں ہوتا ہے صرف سنیوں سے ہی مقصد ہے تو ایسی جگہ امامت کر سکتے ہیں اور بغیر تعظیم کے اپنی رضا سے کوئی دے تو مال موذی نصیب غازی سمجھ کر لے سکتے ہیں جیسا کہ سرکار علیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتےہیں کہ کافراگر ہولی یا دیوالی کے دن مٹھائی دیں تونہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لےلیں مگر یہ نہیں سمجھیں کہ ان کے خبثاء کے تہوار کی مٹھائی ہےبلکہ "مال موذی نصیب غازی"سمجھے(ملفوظات اعلی حضرت حصہ اول ص١٦٣) نوٹ لیکن بچنا بہتر ہے ورنہ رقم لینے کی صورت میں خواہ مخواہ انکی تعظیم ہوگی ان سے سلام و کلام کرنا پڑے گا ان کے خلاف بول نہیں پائے گے لہذا بہتر یہی ہے دور حاضر میں کہ فرقہ باطلہ سے کچھ نہ لی جائے اور نہ دی جائے 

                   واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے