نکاح میں لڑکی کے باپ کا نام نہ لیا جائے تو نکاح ہوگا یا نہیں؟؟؟

 
              السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کےبارے میں کی زیدایک ناجائز بچی کوپال کرجوان کیااب اسکےشادی کی بات ہوئ اب نکاح میں لڑکی کانام لیاگیا اسکےعلاوہ بنت یعنی باپ کانام پتہ نہیں ہے توپھرکس کانام لیا جائیےگاصرف اس لڑکی کانام لیکرنکاح پڑھایاگیا کیا نکاح ہوجائےگاحضورکرم فرمائے عین کرم نوازش ہوگی 

 السائل وصیداحمدرضوی گرام ریگاؤں ضلع گونڈہ یوپی 5/6/2020
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ ، 

                      الجواب بعون اللہ التواب ، 

لڑکی کے نام کے ساتھ لڑکی کے باپ کا نام اس لئے لگایا جا تا ہے کہ لڑکی کا تعارف متحقق ہو جائے ورنہ ہر ایک کا نام بنا کسی باپ کے نام کے شئ معروف پر دلالت کرتا ہے ،اگر والد کا نام لگائے بغیر تعارف متحقق ہو جائے تو نکاح ہو جائے گا کہ نکاح نام ہے گواہان کے موجودگی میں ایجاب و قبول کا صورت مسئولہ میں اگر لڑکی کے والد کا نام معلوم ہوتو نام لکھا جائے ورنہ صرف لڑکی کا نام لینا بھی کافی ہے در مختـــــــــــــــــــــا ر میں ہے :ھو(النکاح) عند الفقھاء عقد یفید ملک المتعۃ ائ حل استمتاع الرجل من امراءۃ لم یمنع من نکاحھا مانع شرعی( در مختار ،جلد 4/ص ،84/کتاب النکاح ) ترجمہ :فقہا کے نزدیک یہ ایسا عقد ہے جو ملک متعہ عطا کرتا ہے، یعنی مرد کے لئے ایسی عورت سے لطف اندوزی حلال ہو جس کے ساتھ نکاح سے کوئی شرط مانع نہ ہو بحر الرائق میں ہے : و ینعقد بایجاب و قبول ۔یعنی اور وہ ( نکاح ) منعقد ہوتا ہے ایجاب و قبول سے۔( بحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 3/صفحہ 136)در مختار میں یہ بھی ہے : شرط حضور شاہدین حرین او حر و حرتین مکلفین سامعین قولھما معا علی معا علی الاصح
 (در مختار،جلد 4ص 84) 

                        واللہ اعلم باصلواب ،

 کتبــــــــــــــــــہ : محمد اختر علی واجؔد القادری عفی عنہ ،خادم شمس العلماء دار الافتاء و القضاء،جامعہ اسلامیہ میراروڈ ممبئی 14/شوال المکرم 1441ھ مطابق 7 جون 2020ء ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے