6.26.2020

اگر بچہ ۱۲/ ذی الحجہ کو پیدا ہوا تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟


              السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مسئلہ:۔کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بکری کا بچہ ۱۲/ذی الحجہ کوعصر کے بعد پیدا ہوتا اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟زید کہتا ہے کہ جائز نہیں کہ ایک سال پورا نہیں ہوگا بلکہ ایک سال مغرب کے بعد ہو گاکیا زید کا قول درست ہے مع حوالہ تحریر فرما ئیں

                    المستفتی:۔ سراج الدین پٹنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

                       الجواب بعون المک الوہاب

قربانی کے لئے بکرا،بکری کی عمر ایک سال گائے،بھینس کی عمر،دوسال،اونٹ کی عمر پانچ سال ہونا چا ہئے اس سے ایک منٹ بھی کم ہوا تو قربا نی جائز نہیں جیسا کہ درمختارمیں ہے”صح ابن خمس من الابل۔ وحولین من البقر والجاموس وحول من الشاۃ والمعز“پانچ سال کا اونٹ، دو سال کی گائے اور بھینس، اور ایک سال کی بکری اور بھیڑ، کی قربانی صحیح ہے۔ (درمختار کتاب الاضحیۃ) اور جو بکری کا بچہ ۱۲/ ذی الحجہ کو عصر کے بعد مثلاپانچ بجے پیدا ہو ا وہ اس سال ۱۲/ ذی الحجہ کو پانچ بجے ایک سال کا ہو جائے گا اور اسکی قربا نی پانچ بجے کے بعد جا ئز ہو گی،اور زید کا یہ کہنا کہ مغرب کے بعد ایک سال پورا ہو گا یہ غلط ہے جیسا کہ بہار شریعت میں چمڑے کے موزے پر مسح کرنے کے متعلق ہے مقیم ایک دن رات اور مسافر تین دن رات موزہ پر مسح کرسکتا ہے اور ایک دن کس وقت پورا ہوتا ہے علا مہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرما تے ہیں کہ موزہ پہننے کے بعد پہلی مرتبہ جو حدث ہوا اس وقت سے اس کا شمار ہے مثلا صبح کے وقت موزہ پہنا اور ظہر کے وقت پہلی بار حدث ہوا تو مقیم دوسرے دن کی ظہر تک مسح کرے اور مسافر چوتھے دن کی ظہر تک۔(بہار شریعت ح ۲/ موزوں پر مسح کا بیان) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس وقت مسح ٹوٹا تھا جب دوسرے دن وہ وقت آجا ئے گا تو ایک دن پورا ہو جا ئے گا اور مقیم کا مسح جاتا رہے گااگردن کا شمار مغرب کے بعد ہوتا تو پہلے دن مغرب تک کہا جا تا یا پھر دوسے دن مغرب کی تک کا حکم ہوتا حالانکہ ایسا نہیں ہے جس وقت وضو ٹوٹا دوسرے دن اسی وقت ایک دن پورا ہوگا یونہی بچہ جس وقت پیدا ہوا دوسرے سال وہ وقت آنے پر ایک سال کاہو جا ئے گااسکے بعد قربا نی کرنا جائز ہوگا۔چونکہ قربا نی کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوع فجر سے بارہ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے,,وقت الاضحیۃ بعد طلوع الفجر من یوم النحر الیٰ غروب الشمس من الیوم الثانی عشر“(ج۵ ص۲۹۵) لہذا بارہ ذی الحجہ کو پیدا ہو نے والے جا نور کی قربا نی جا ئز ہے جب کہ پید ئش کا جو وقت ہو اس کے بعد کی جا ئے،اور زید کا کہنا کہ جائز نہیں غلط ہے زید پر لازم ہے کہ غلط مسئلہ بیان کرنے کے سبب تو بہ کرے اور آئندہ غلط مسئلہ نہ بیان کرے حدیث شریف میں ہے ”من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض

                         “واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۳/ ذی الحجہ ۱۴۴۰ھ ۴/ جون ۲۰٢٠ ء بروز بدھ 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only