مرحومین کو گالی دینا کیسا ہے


               السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

 کچھ لوگ بعض اوقات مرحوم یامرحومہ کوگالی دیتے ہیں یہ کیسا ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

                          سائل؛ سبحانی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

اس گندی عادت کی برائی ہر چھوٹا بڑا جانتا ہے, یقیناً پھوہڑ اور فحش الفاظ اور گندے کاموں کو بولنا یہ کمینوں اور ذلیل لوگوں کا طریقہ ہے،، اور شریعت میں حرام وگناہ ہے,, حدیث شریف میں ہے (عن ابن مسعود قال قال رسول اللّٰہ ﷺ سباب المسلم فسوق/ صحیح مسلم، کتاب الایمان باب بیان قول النبی ﷺ الخ ص ۵۲)یعنی؛- حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقاۓ دو جہاں ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا یہ فاسق کا کام ہے,(جنتی زیور صفحہ نمبر 123)اور اسی طرح سے حضور صدر العلماء مفتی الحاج سید غلام جیلانی صاحب قبلہ میرٹھی قدس سرہ نظام شریعت میں ایک حدیث شریف بیان فرماتے ہیں ک آقاۓ دو جہاں ﷺ نے فرمایا جو شخص مرتا ہے, اور رونے والا اس کی خوبیاں بیان کرکے روتا ہے' تو اللہ تعالیٰ اس میّت پر دو فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے, جو اسے کونچتے ہیں، اور کہتے ہیں- کیا تو ایسا تھا,اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ فرماتے ہیں("المیت یتأذی بما یتأذی منه الحی")یعنی:- جس چیز سے زندہ انسان کو اذیت پہونچتی ہے, اس سے میت کو بھی اذیت پہونچتی ہے،لہذامذکورہ بالا حوالہ جات سے پتا چلا کہ گالی گلوچ سے مرحوم یا مرحومہ کو اسی سے تکلیف ہوتی ہے، جس طرح سے زندہ انسان کو ہوتی ہے، اور گالی گلوچ کرنا چاہے زندہ کے لئے ہو یا مردہ کے لئے ہو، حرام اور گناہ ہے، بلکہ ہمیں تو ان کی خوبیاں بیان کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو ہر اس عمل سے بچائے جو میت کی ایذا کا سبب ہو،[برکات شریعت حصہ سوم عالم برزخ کا بیان؛ نظام شریعت صفحہ نمبر 367]

                   واللہ اعلم بالصواب 

                کتبہ عمران شاغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے