7.18.2020

قربانی کے جانور میں دیوبندی کا بھی حصہ ہو تو قربانی کا کیا حکم ہے


السلام  علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

سوال ۔۔ علمائے کرام. اس مسئلہ کو حل کریں قربانی کے جانور میں دیوبندی کا بھی اگر حصہ ہوتو کیا جو سنی بھائی شریکِ حصہ ہے اس کی قربانی ہو جائیگی کہ نہیں جبکہ ذبح سنی عالم کررہے ہیں۔۔اس کا جواب عنایت فرنائیں کرم نوازی ہوگی 

العارض محمد رضوان رضوی کشن گنج بہار مقیم حال مرادآباد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

اشرف علی تھانوی قاسم نانتوی رشیداحمد گنگوہی خلیل انبیٹھوی کے ان کےکفریات قطعیہ مندرجہ حفظ الایمان صفحہ ۸ تحزیرالناس صفحہ۱۳۱۴۲۸ اوربراہین قاطعہ صفحہ ۱۵  بنا پر مکہ معظمہ مدینہ منورہ اورہندوپاک بنگلہ دیش اوربرماکے سیکڑوں علمائے کرام ومفتیان عظام نےکافرمرتد قرار دیاہے جس تفصیل فتاوی حسام الحرمین اورالصوارم الہندیہ میں ہےاورسارے دیوبندی انہیں اپناپیشوا اورمسلمان مانتےہیں اوران کےحامی ہیں تووہ بھی مرتدکےحکم میں ہیں اوررافضی بھی کئ وجوہ سے کافرومرتدہیں جس کی تفصیل تحفہ عشریہ میں موجودہے ان میں سے کوئ قربانی کےجانورمیں حصے لیتاہے توکسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی بلکہ اگرصرف گوشت کی نیت سے کوئ شریک ہوتوبھی قربانی نہیں ہوگی حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں کہ شرکامیں سےایک کافرہےیاان میں ایک شخص مقصود قربانی نہیں بلکہ گوشت حاصل کرناہے توکسی کی قربانی نہ ہوگی (بہارشریعت حصہ ۱۵ صفحہ ۱۴۲) درمختار کتاب الاضحیۃ میں ہے وان کان الشریک الستۃ نصرانیااومریدااللحم لم یجزعن واحدمنھم اھ جلد۶ صفحہ ۳۲۶) اورفتاوی عالمگیری میں ہے ولوکان احد الشرکاءذمیاکتابیا اوغیر کتابی وھویریداللحم اویریدالقربۃ فی دینہ لم یجز ئھم عندنالان الکافر لایتحقق منہ القربۃ فکانت نیتہ ملحقۃ بالعدم فکان یرید اللحم اھ جلد۵ صفحہ ۳۰۴باب فیمایتعلق بالشرکۃ فی اضحایا(ماخوذ فتاوی مرکزتربیت افتاء جلددوم صفحہ ۳۲۸) 

واللہ اعلم بالصواب 

کتبہ غیاث الدین قادری دارالعلوم شھیداعظم دولہاپور گونڈہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only