7.06.2020

طالب علم سے قطع تعلق کا حکم دینا کیسا ہے؟


                السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
علماء کرام کی با رگا ہ میں میرا ایک سوال ہے وہ یہ ایک دارالعلوم ہے جس میں کچھ طلبہ زیر تعلیم ہیں کسی وجہ ایک طالبعلم اس مدرسہ سے بھاگ جائے استاذ کی اجازت کے بغیر تو استاد کا اپنے شاگردوں پر یہ حکم لگانا کہ اس سے قطع تعلق کر لو اس سے بات چیت نہ کرو تو کیا استاذ کا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

               سائل : محمد فرقا ں رضا بہرائچی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

   الجواب بعون الملک الوہاب الھم ھدایت الحق والصواب 

مدرسہ سے طالب علم کا بھاگ جانے کی صورت میں استاذ کا ایسا کہنا ٹھیک نہیں ہے -فتاویٰ شارح بخاری میں ہے مدرسہ کو کسی نے چڑیا گھر کہا اس کے جواب میں نائب مفتی اعظم فرماتے ہیں مدرسہ کو جس نے چڑیا گھر کہا تو اس بناپر کہا کہ جیسے چڑیا گھر میں کچھ دن رہتی ہیں پھر چلی جاتی ہیں پھر دوسری چڑیا آتی ہیں- یہی حال مدرسہ کا کہ کچھ مدرس آتے ہیں جاتے ہیں ، پھر دوسرے آتے ہیں تیسرے آتے ہیں - پڑھنے والے آتے ہیں چلے جاتے ہیں ، پھر دوسرے لوگ آتے ہیں ، یوں ہی ہمیشہ آتے جاتے رہتے رہیں گے اس میں کوئی حرج نہیں (ج : 3 ، ص : 140) لہذا کسی طالب علم کا چلے جانے کی صورت میں برا بھلا کہنا یا اس سے بات چیت کے لیے منع کرنا درست نہیں 

                      واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ عبد السّتار رضوی خادم ارشدالعلوم عالم بازار کلکتہ - ١٠، ذی قعدہ ١٤٤١ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only