کیا عورت اسکوٹی چلا سکتی ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورتیں اسکوٹی چلا سکتی ہیں یا نہیں مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل محمد فیضان علی رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ 

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

عورتوں کا گاڑی چلانا یا ڈارائیونگ کرنا منع وناجائز ہے خواہ وہ کار ہو یا موٹر سائیکل ہو یا اسکوٹی ہو اس لئے کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے کیوں کہ گاڑی چلانا اصل وضع میں مردوں کا فعل ہے جیسا کہ زین پر سوار ہونا یا چڑھنا عورتوں کا فعل نہیں بلکہ مردوں کا کام ہے علامہ علاؤالدین الحصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں لاترکب مسلمۃ علی سرج للحدیث یعنی مسلمہ عورت زین پر سوار نہ ہو حدیث کی وجہ سے اسی کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں للحدیث وھو لعن اللہ الفروج علی السروج ذخیرۃ لکن نقل المدنی عن ابی الطیب أنہ لا أصل لہ اھ یعنی بھذا اللفظ والا فمعناہ ثابت ففی البخاری وغیرہ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال وللطبرانی أن امرأۃ مرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم متقلدۃ قوسا فقال لعن اللہ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء اھ یعنی اللہ کی لعنت ہے زین پر سوار ہونے یا چڑھنے والی عورتوں پر ذخیرہ میں ہے لیکن مدنی نے ابی ابو طیب سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی کوئ اصل نہیں اھ یعنی اس لفظ سے حدیث ثابت نہیں لیکن اس کا معنیٰ ثابت ہے جیسا کہ بخاری وغیرہ میں ہے یعنی اللہ کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی اور طبرانی کی روایت میں ہے ایک عورت کمان لٹکائے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب سے گزری تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر" اھ" (فتاویٰ شامی ج 9 ص 606 ) اور امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ حدیث نقل فرماتے ہیں امام احمد بسند صحیح ایک تابعی ہذیلی سے راوی میں عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر تھا ایک عورت کمان لٹکائے مردانی چلتی سامنے سے گزری عبداللہ نے پوچھا یہ کون ہے کہا ام سعید دختر ابوجہل فرمایا میں نے سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہمارے گروہ سے نہیں وہ عورت کہ مردوں سے تشبہ کرے اور نہ وہ مرد کہ عورتوں سے ام المئومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئ کہ ایک مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مردانی عورتوں پر لعنت فرمائ ہے ابوداؤد شریف فتاویٰ رضویہ ج نہم نصف اول قدیم ص 133"134 اور اگر دینی یا دنیوی ضرورت ہو تو اس شرط سے گاڑی چلانے کی اجازت ہے کہ وہ باپردہ ہو اور شوہر یا کسی محرم کے ساتھ ہو جیسا کہ درمختار میں ہے ولو حاجۃ غزواوحج اومقصد دینی او دنیوی لا بدلھا منہ فلا باس حدیث کے تحت شامی میں ہے ای بشرط ان تکون متسترۃ وان تکون مع زوج او محرم اھ " (فتاویٰ مشاہدی ص 147)

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ محمد ریحان رضا رضوی فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جی علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کی جو عورتیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتی ہیں اور کوئی وجہ بھی نہیں ہے ایسی عورتوں کے بارے میں حدیث مصطفیٰ میں کیاہے اور علماء کرام کیا فرماتے ہیں لہٰذا علماء کرام سے گزارش ہے کی مکمل وجوحات کے ساتھ جواب عنایت فرمایں عین نوازش ہوگی فقط والسلام
    سائل حافظ محمد زاہدالقادری مقام ماگھی ضلع بہرائچ شریف یوپی

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ