جو امام اپنے گھر جاکر نماز نہ پڑھے اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیافرماتے ہیں علماےء دین اس مسئلہ میں کہ زید جب تک مدرسہ یامسجد میں رہتاہے نماز پڑھتاہے اور گھر پر آنے کےبعد کبھی پڑھتا کبھی نہیں پڑھتا تو زید کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں جواب عطافرمایں عین ونوازش ہوگی المستفی محمد اشرف نیپال

       جواب

اگر باقعی زید جان بوجھ کر کے نماز چھوڑتا ہے چاہے وہ گھر پر چھوڑنا ہو یا مدرسے میں چھوڑنا ہو وہ فاسق اور فاسق کی اقتداء مکروہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی لہذا اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی جاے اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان نمازوں کا اعادہ بھی کرے
صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہر مکلف یعنی عاقل بالغ پر نماز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصدا چھوڑے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر ۴۴۳ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ
اور مفتی جلال الدین امجدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ایسے شخص( یعنی جو نماز چھوڑتا ہو) کو امام رکھنا درست نہیں اس لئے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے یعنی اس کی اقتداء میں پڑھی گئی نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا سائل کا نام درمختار مع شامی جلد اول صفحہ نمبر ۳۳۷ میں ہے کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر ۱۲۲ مطبوعہ فقیہ ملت دہلی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے