ایک رات میں تین بار جماع کیا تو تیسری بار غسل فرض ہو جاتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا کہنا ہے اگر بیوی سے ایک رات میں تین مرتبہ جماع کیا تو تیسری مرتبہ غسل فرض ہو جاتا ہے اب چوتھی مرتبہ بغیر غسل کے جماع حرام ہے زید کا کہنا کیسا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنائت فرمائیں مہربانی ہوگئی المستفی محمد مشتاق عالم نوری پیلی بھیت شریعت

       جواب

زید جاہل ہے بلکہ موجب لعنت و مستحق عذاب نار ہے رجوع کرے توبہ استغفار کرے
اللہ کے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں من افتی بغیر علم فلعنتہ ملاٸکة السمٰوت والارض جو بغیر علم کےمسٸلہ بتاۓ اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنتیں ہوتی ہے {کنزالعمال} صورت مسٶلہ میں پہلے بار میں ہی آدمی اپنی عورت سے جماع کرےگا اس پر غسل فرض ہوجاۓ حتی کہ حشفہ آگے یا پیچھےکے مقام میں چھپ جانےسے غسل فرض ہوجاتا ہے ج
فتاویٰ ھندیہ میں ہے (السَّبَبُ الثَّانِي الْإِيلَاجُ): الْإِيلَاجُ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ إذَا تَوَارَتْ الْحَشَفَةُ يُوجِبُ الْغُسْلُ عَلَى الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ بِهِ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ وَهَذَا هُوَ الْمَذْهَبُ لِعُلَمَائِنَا، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ المجلدالاول کتاب الطھارة ، ص ١٨ {بیروت لبنان} اور جماع کے بعد پھر جماع کےلیۓ غسل ضروری نہیں البتہ وضوٕ کرلینا بہتر ہے یعنی صحبت کرے دوبارہ صحبت کےلیۓ وضوٕ کرلے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

مقام خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے