7.18.2020

جنازہ کی نماز میں سلام کیسے پھیرے نیت باندھ کر یا نیت چھوڑ کر


السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

علماۓ کرام ومفتیان عظام کے بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ جنازہ کی نماز میں سلام کیسے پھیرے نیت باندھ کر یا نیت چھوڑ کر سلام پھیرے جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

سائل محمد عقیل رضا بہرایچ شریف یوپی الہند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
و علیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ 

الجواب بعون ملک الوھاب 

نیت چھوڑ کر سلام پڑھیں جیسا کہ سرکار صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کوئی دعا پڑھے ہاتھ کھول کر سلام پھیر دے (بہار شریعت حصہ چہارم ص ٨٣٥) کتاب الجنائز اور سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہاتھ باندھنا سنت اس قیام کی ہے جس کے لئے قرار ہو کما فی الدرالمختار وغیرھامن الاسفار جیسا کہ در مختار وغیرہ کتابوں میں ہے سلام وقت خروج ہے اس وقت ہاتھ باندھنے کی طرف کوئی داعی نہیں تو ظاہر یہی ہے کہ تکبیر چہارم کے بعد ہاتھ چھوڑ دیا جائے (فتاوی رضویہ شریف جلد نہم ص ١٩٤) 

واللہ تعالی اعلم باالصواب 

انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only