7.06.2020

دولھا دلہن کو مہندی لگانا کیسا ہے؟



                 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مسئلہ:۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دولہا اور اور دلہن کو مہندی لگانا کیسا ہے؟ نیز مجبوری میں یعنی کام کرنے کی وجہ سے ہاتھ یا پاؤں میںزخم ہو گیاہو یا جلن ہو رہا ہو تو مہندی لگانا کیسا ہے؟بینوا تو جروا 

            المستفتی:۔محمد ہا رون واحدی بنارس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

                 الجــــــــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

عورت مہندی لگا سکتی البتہ مرد کوہا تھ پاوں میں مہندی لگانی حرام ہے ہاں اگر بطور علاج ہو تو لگا سکتے ہیں جبکہ دوسری چیز اس کے قائم مقام نہ ہو جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ مرد کو ہتھیلی یاتلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی حرام ہے کہ عورتوں سے تشبّہ ہے’’ شرعۃ الاسلام ومرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے’’الحناء سنّۃ للنساء ویکرہ لغیرھن من الرجال الا ان یکون لعذر لانہ تشبہ بھن‘‘اقول: والکراھۃ تحریمیۃ للحدیث المار لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء فصح التحریم ثم الاطلاق شمل الاظفاراقول: وفیہ نص الحدیث المار لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارک بالحناء۱؎اما ثنیا العذر فاقول ھذا اذا لم یقم شیئ مقامہ ولاصلح ترکیبہ مع شیئ ینفی لونہ واستعمل لاعلی وجہ تقع بہ الزینۃ‘‘مہندی لگانی عورتوں کے لئے سنت ہے لیکن مردوں کے لئے مکروہ ہے مگرجبکہ کوئی عذر ہو (توپھر اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے مہندی استعمال کرنے میں عورتوں سے مشابہت ہوگی اقول: (میں کہتاہوں) کہ یہ کراہت تحریمی ہے گزشتہ حدیث پاک کی وجہ سے کہ جس میں یہ آیا ہے کہ اﷲ تعالی نے ان مردوں پرلعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیارکریں، لہٰذا تحریم یعنی کراہت تحریمی صحیح ہوئی۔ اور اطلاق (الفاظ حدیث) ناخنوں کوبھی شامل ہے۔اقول: (میں کہتاہوں) اس میں بھی گزشتہ حدیث کی صراحت موجود ہے،حدیث: اگرتُوعورت ہوتی توضرور اپنے سفیدناخنوں کومہندی لگاکرتبدیل کردیتی، رہاعذر کااستثناء کرنا، تو اس کے متعلق میری صوابدید یہ ہے کہ (عذر اس وقت تسلیم کیاجائے گا کہ) جب مہندی کے قائم مقام کوئی دوسری چیزنہ ہو، نیز مہندی کسی ایسی دوسری چیز کے ساتھ مخلوط نہ ہوسکے جو اس کے رنگ کوزائل کردے۔ اور مہندی استعمال میں بھی محض ضرورت کی بناپر بطور دوااورعلاج ہو، زیب وزینت اورآرائش مقصود نہ ہو۔( فتاوی رضویہ جلد ۲۴؍ ص ۵۴۳؍۵۴۴؍دعوت اسلامی )

                          واللہ اعلم بالصواب

کتبہ  فقیر تاج محمد قادری واحدی ۱۳؍ ذی القعدہ ۱۴۴۱؁ھ ۵؍ جولا ئی ۲۰۲۰؁ء بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only