کیا مجبوری میں کہنیاں کھولکر نماز پڑھ سکتے ہیں

الســـلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ کے ذیل میں کی کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی شخص کہنیوں کھول کر نماز پڑھے تو کیا حکم ہے

سائل محمد ساجد رضا رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب 

پوری آستین کا کپڑا موجود ہونے کی صورت میں آدھی آستین کا کپڑا پہنکر کہنیاں کھولکر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اور کپڑا موجود نہیں تو کراہت بھی نہیں اور کرتے یا اچکن کی آستین چڑھاکر کہنیاں کھولکر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جیساکہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں جس کے پاس کپڑے موجود ہوں اور صرف نیم آستین یا بنیائن پہنکر نماز پڑھتا ہے تو کراہت تنزیہی ہے اور کپڑے موجود نہیں تو کراہت بھی نہیں معاف ہے اور اگر کرتے یا اچکن کی آستین چڑھاکر نماز پڑھتا ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہے درمختار میں ہے  و کرہ کفہ ای رفعہ ولو لتراب کمشمر کم او ذیل و صلاتہ فی ثیاب بذلۃ یلبسھا فی بیتہ و مھنتہ ای خدمتہ ان لہ غیرھا و الا لا " اھ (فتاوی امجدیہ ج:1/ص:193/ باب مکروھات الصلاۃ ) اور اسی طرح فتاوی فقیہ ملت ج:1/ص:174/ باب ما یکرہ فی الصلاۃ / شبیر برادرز اردو بازار لاہور / میں ہے 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 15---جولائی---2020---بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ