7.16.2020

کیا کافر کی گواہی سے نکاح جائز ہے؟؟؟

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ بارگاہ میں ایک سوال عرض ہےکافر کے، گواہی سے نکاح جائز ہے کہ نہیں براۓ کرم جواب عنایت فرماٸیں مہربانی ہوگی 

محمد اجمیر علی بہرائچ شریف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب 

مسلمان مرد و عورت کا نکاح صحیح ہونے کے لئے گواہوں کا مسلمان ہونا شرط ہے کافروں کی گواہی معتبر نہیں خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے و لن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا " یعنی اللہ کافروں کو مسلمانوں پر بھی کوئی راہ نہ دیگا " اھ( پ:5/آیت:141/ سورۂ نساء) اسکی تفسیر میں حضرت ملا احمد جیون علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں (و لن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا) أی حجۃ علی المؤمنین فی الدنیا ان لا یجوز شھادۃ الکافرین علی المسلم لأنہ فیہ ولایۃ لھم علی المسلم " اھ) تفسیرات احمدیہ ص:213) اور بحر الرائق جلد سوم صفحہ 89/ میں ہے لا ینعقد بحضرۃ الکفار فی نکاح المسلمین لأنہ لا ولایۃ لھؤلاء " اھ اور بدائع الصنائع جلد دوم صفحہ 454/ میں ہے لا ینعقد نکاح المسلم والمسلمۃ بشھادۃ الکفار لأن للکافرین لیس من أھل الولایۃ علی المسلم " اھ اور تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد دوم صفحہ 99/ میں ہے لا بد من اشراط الاسلام فی انکحۃ المسلمین لأنہ لا شھادۃ للکافرین علی المسلم اذ لا ولایۃ علیہ قال اللہ تعالیٰ : لن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا " اھ اور ایسا ہی جوہرۂ نیرہ جلد دوم صفحہ 76/ پر بھی ہے (بحوالہ فتاوی فقیہ ملت ج:1/ص:384/ کتاب النکاح / شبیر برادرز اردو بازار لاہور) 

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ  9---جولائی---2020---بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only