ولدالزنہ کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

بعد سلام عرض ہے کہ، ولدالزنہ کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں، اور ہوگی تو کیسے ہوگی، اور اگر نہیں ہوگی تو کیوں؟بینوا توجروا جواب عنایت فرمائیں

سائل محمد فیضان رضا قادری پتہ حبیب پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب 

صورت مسئولہ میں اگر حاضرین مجلس میں کوئی شخص ولدالزنا سے زیادہ طہارت ونماز کے مسائل جانتا ہو اور کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو تو ایسے شخص کے ہوتے ہوئے ولد الزنا کو امام بنانا صرف مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولیٰ ہے اور اگر سب حاضرین سے زیادہ مسائل طہارت ونماز کا علم رکھنے والا وہی ہے تو اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنا بلاکراہت جائز ہے جب کہ کوئی دوسری وجہ مانع امامت نہ ہو (فتاویٰ علیمیہ جلد اول صفحہ ۱۸۸)چنانچہ علامہ تمرتاشی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں یکرہ امامۃ عبدو اعرابی وولد الزناء (الیٰ قولہ ) الا ان یکون اعلم القوم' (تنویر الابصار مع الشامی جلد ۱ ، صفحہ ۳۷۶) اور امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ولد الزناء کی امامت مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولیٰ ہے جب کہ وہ سب حاضرین میں مسائل طہارت ونماز کا علم زیادہ نہ رکھتا ہو اور اگر حاضرین میں وہ ہی صرف لائق امامت ہے تو اسے امام بنانا واجب ہوگا (الفتاویٰ الرضویہ جلد ۳، صفحہ ۱۷۹)وھکذا فی فتاویٰ فیض الرسول لفقیہ الملۃ المفتی جلال الدین احمد الامجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں اگر کوئی دوسرا شخص ولد الزنا سے طہارت ونماز کا علم زیادہ رکھتا ہو تو اس ولد الزنا کو امام بنانا مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولیٰ ہے اور اگر وہ ولد الزنا مسائل طہارت ونماز سب حاضرین سے زیادہ جانتا ہو تو اسے امام بنانا بلاکراہت جائز ہے اگر کوئی دوسری وجہ مانع امامت نہ ہو- (فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ۳۰۶) درمختار میں ہے: کرہ امامۃ عبدا واعرابی وولد الزناء الیٰ قولہ الا ان یکون اعلم القوم

واللہ تعالیٰ ورسولہ الاعلیٰ اعلم جل جلالہ و ﷺ 

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی متعلم ( درجہ تحقیق سال دوم) دارالعلوم ایل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند ۱۲/ ذی الحجۃ الحرام ۱۴۴۱ ہجری بروز دوشنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے