8.03.2020

قصے کہانیاں کا شرعی حکم کیا ہے

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاؤں میں قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے کے لوگ سنایا کرتے تھے تو ایسی کہانیاں سننا کیسا ہے نیز ان پر عمل کرنا کیسا ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل محمد فیضان رضا قادری پتہ حبیب پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

قصے کہانیاں صحیح روایتوں پر مشتمل ہوں یا پھر دیگر سبق آموز کہانیاں جو صحیح و درست ہوں ان کا پڑھنا پڑھوانا جائز و درست ہے جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے؛
دس بیویوں کی کہانی اور سولہ سیدوں کی کہانی اور شہادت نامہ اگر صحیح روایتوں پر مشتمل ہوں تو ان کا پڑھنا اچھا ہے یوں ہی دیگر سبق آموز کہانیاں بھی اور اگر ان میں غلط اور جھوٹی روایتیں بیان کی گئی ہوں تو ان کا پڑھنا جائز نہیں البتہ ان کتابوں کے پڑھنے کی منت ماننا ضرور جہالت ہے ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد 9صفحہ 88 نصف اول / اور فتاوی مصطفویہ ص 526 پر ہے اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ و الرضوان بہار شریعت حصہ نہم ص 35 پر تحریر فرماتے ہیں کہ منت مانا کرو تو نیک کام نماز روزہ خیرات اور دورود شریف کلمہ شریف قرآن شریف پڑھنے ، فقیروں کو کھانا دینے کپڑا پہنانے وغیرہ کی منت مانو؛ (فتاوی فقیہ ملت جلد 2 صفحہ 96 / کتاب الایمان والنزور) نوٹ: دور حاضر میں دس بیویوں کی اور سولہ سیدوں کی اور شہادت نامہ وغیرہ جو کتابیں ملتی ہیں وہ صحیح روایتوں پر مشتمل نہیں ہے اس لیے ان سب کا پڑھنا جائز نہیں 


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

کتبہ محمد معصوم رضا نوری عفی عنہ ۲۹/ ذی القعدہ ۱۴۴۱ہجری ۲۱/ جولائی ۲۰۲۰عیسوی  بروز منگل

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only