سلام کے بجائے آداب عرض ہے کہنا کیسا ہے

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کچھ لوگ سلام کی بجائے آداب کہتے ہے تو ایسا کہنا کیسا ہے اور اسکے اوپر کیا حکم ہے ۔۔۔۔مدلل جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔؟؟ فقط و السلام

سائل محمد توسیع عالم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

بجاۓسلام کےآداب کہنابہترنہیں کہنے والا گنہگارتونہیں ہوگا مگر سنت کاثواب بھی نہیں پائے گا جیساکہ حضورصدرالشریعہ رحمةاللہ تعالی علیہ تحریرفرماتے ہیں کہ بعض لوگ آداب عرض کہتےہیں ،، اگرچہ اس میں اتنی براٸی نہیں مگرسنت کےخلاف ہے( بہارشریعت حصہ١٦ ص٤٦٥ ناشرمکتبةالمدینةدھلی ) تنبیہ لہذامسلمانوں کوچاہیۓاپنےنبیﷺکےمقدس طریقےاپناٸیں یعنی اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ کہیں 

واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ عبید اللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    عرض یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو آداب عرض ہے کہنا کیسا ہے؟

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ