کیا کافر کو کافر نہیں کہنا چاہئے

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کا کہنا ہے کہ کافر کو کافر نہیں کہ سکتے تو کیا زید کی بات درست ہے یا نہیں برائے کرم مکمل جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی 

سائل محمد قمرالدین قادری بمقام گیناپورر ضلع بہرائچ شریف یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

مسلمان کو مسلمان جاننا اسی طرح کافر کو کافر جاننا ضروریات دین سے ہے یعنی کافر کو کافر ہی کہا جائے گا ارشاد ربانی ہے قل یٰاایھا الکافرون تم فرماؤ کہ اے کافرو! (سورۃ الکافرون پارہ ۳۰ / آیت ۱) یعنی اللہ تعالی نے کافر کوکافر کہا اور صبح قیامت تک مسلمان اس کی تلاوت کرتے رہیں گے اور کافرکو کافر کہتے رہیں گے لہذا کافر کو کافر ماننا ہی حکم شرع ہے بلکہ جو کافر کو کافر نہ جانے یا نہ مانے وہ خود بھی کافر ہے البتہ اگر اسے کافر کہنے میں فتنہ وفساد کا صحیح اندیشہ ہو تو کافر نہ کہے مگر کافر ضرور جانے 

واللہ واعلم بالصواب

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی متعلم (درجہ تحقیق سال دوم) دار العلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0