قعدہ اولی میں بھول کر سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ عصر کی چار رکعت نماز کے دوران دو ہی رکعت پر داہنے طرف سلام پھیر دیا اور اسی وقت یاد آیا اور فوراً تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا۔اسطر تیسری اور چوتھی رکعت نماز پوری کی اور سجدہ سہو کر لیا، کیا اسطرح نماز پوری ہو گئی۔ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

غلام سرور آرہ ممبر آف گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں نماز ہوگئی امام یا منفرد اگر بھول کر قعدہ اولی میں سلام پھیر دیا اور ابھی حرمت نماز میں ہے یعنی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو فوراً کھڑا ہوجائے اور نماز کو پوری کرے اور اخیر میں سجدہ سہو کر لے نماز ہوجائے گی) اور اگر نماز کے منافی کوئی کام کیا تو نماز، کا اعادہ کرےاسی طرح سجدہ سہو واجب تھا کرنا بھول گیا تو نماز کا اعادہ کرے ( ماخوذ بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم سجدہ سہو کا بیان )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ  ۱/ محرم الحرام۱۴۴۱ہجری۱٤٤٢ہجری ۲۱/ اگست ۲۰۲۰عیسوی  بروز جمعہ مبارکہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. اسلام علیکم و رحمتہ اللہ تعالیٰ برکاتہ
    کیا فرماتے ھیں علماء کرام ومفتیان کرام
    مسجد کا چندہ غیر مزہب سے کرنا کیسا ہے

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ