8.03.2020

زانی عورت کو قتل کر دیا تو کیا حکم ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓ ذوی الحترم کہ زید اپنی بیوی کی بدچلنی بد فعلی سے پریشان ہوکر اپنی بیوی کو اور اپنی ساس جو اپنی بیٹی کی طرفداری کرتی تھی دونوں کو اسی وجہ سے قتل کردیا کہ زید اپنے محلے میں عزت کے ساتھ سراٹھاکر جی سکے تو کیا زید کہ قتل کرنے پر اپنی بیوی کے سارے گناہ زید کہ سرپر آئیگا یانہیں کیا قرآن وحدیث میں ایسا کچھ ہے ایک گناہ گار کی قتل وے قاتل پر سارے گناہ تھوپاجاۓ گا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

محمد عبد الجلیل اشرفی امام شاہی جامع مسجد اورنگ آباد متھورا یوپی ممبر آف گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب 

سب سے پہلے تو زید کو اپنی بیوی کو راہِ راست میں لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے تھا، اور جو بھی صورتحال ممکن ہو، اس پر عمل کرنا چاہیے تھا ناکہ اسے دنیوی عزت و شہرت حاصل کرنے کی لالچ میں رہنا، یا پھر اپنے شہر کے کسی اعلم العلماء بلد سے رابطہ قائم کرنا چاہیے تھا، نہ کہ یہ صورت اختیار کرنا-" اس لئے کہ تمام مسلمان محفوظ الدم ہیں، فقہی اصطلاح میں اسے" محفوظ الدم" اور "مصون الدم" بھی کہتے ہیں- یعنی بغیر کسی وجہ شرعی کے ان کا خون بہانا حرام ہے، اور وہ شرعی وجوہ،، جن کے سبب کسی مسلمان کا خون مباح ہوجاتا ہے، یہ ہیں (الف) یہ کہ کوئی مسلمان العیاذ باللہ مرتد ہوجائے-"(ب) کسی کو ناحق قتل کرے-" (ج) شادی شدہ زانی ہو ان وجوہات کے سوا مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے، اور جو مسلمان ان وجوہ میں سے کسی ایک کا ارتکاب کر لے، تو پھر وہ محفوظ الدم نہیں رہتا، بلکہ مباح الدم ہوجاتا ہے، یعنی اس کی جان کی حرمت باقی نہیں رہتی،، لیکن اس کے باوجود اس کو قصاص یا حد شرعی میں قتل کرنا عوام کا کام نہیں ہے' بلکہ یہ اسلامی حکومت کا منصب اور اس کی ذمہ داری ہے، قرآن مجید میں ہے ("ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہٗ جہنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیه ولعنه واعدله عذابا عظیما") ترجمہ؛- جو شخص کسی مومن کو عمدًا قتل کرے- تو اس کی سزا دوزخ ہے' جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اور اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے' اور {اللہ تعالی نے} اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، ﴿﴿سورۃ النساء؛ 93﴾﴾لہذا شرعی طور پر کسی محفوظ الدم مسلمان کی جان کو حلال جان کر یا اسے کار ثواب اور بذریعہ دخول جنت سمجھ کر {بغیر کسی شرعی جواز کے} قتل کرنا تمام ائمہ کے نزدیک کفر ہے- الخ (مزید معلومات کے لئے تفہیم المسائل جلد سوم صفحه 485 کا مطالعہ کریں-") اب چونکہ جہاں اسلامی حکومت وقاضی شرع نہیں- اور کفار ومشرکین کی حکومت کی وجہ سے حدود وتعزیرات کو بر وجہ شرعی جاری نہ کر سکے تو وہاں کے مجرمین پر اعلانیہ توبہ واستغفار لازم ہے، ہندوستان میں فی الحال حکومت مشرکین کی وجہ سے یہاں حدود و تعزیرات کا حکم منسوخ ہے' تو لہذا اگر زید نے واقعی ذاتی رنجش کی وجہ سے بلاوجہ شرعی کے دونوں کو مار ڈالا تو اس صورت میں اس شخص پر اعلانیہ توبہ واستغفار لازم ہے،‌ اور گھر والوں سے معافی مانگیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ ناچیز فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only