8.03.2020

نماز فجر میں دعاء قنوت کس صورت میں پڑھنا جائز ہے

السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ،،نماز فجر میں دعاء قنوت کس صورت میں پڑھنا جائز ہے بحوالہ جواب تحریر فرمائے عین نوازش ہوگی 

محمد عرفان رضا ربانی مہاراشٹر ہندوستان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ 

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مسئولہ میں کوئ حادثہ پیش آجائے تو فجر کی نماز میں دعائےقنوت پڑھنا جائز ہے جیسا کہ حضور فقیہ ملت مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں جب کہ بہت بڑا کوئ حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں فجر کی نماز میں بھی دعائے قنوت پڑھنا جائز ہے اھ" (درمختار ردالمحتار ج 1 ص 451 فقہی پہیلیاں ص 108) اور حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں وتر کے سوا اور کسی نماز میں قنوت نہ پڑھے ہاں اگر حادثۂ عظیمہ واقع ہوتو فجر میں بھی پڑھ سکتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ رکوع کے قبل قنوت پڑھے اھ"( بہار شریعت ج 1 ح 4 ص 657 وتر کا بیان) 

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ محمد ریحان رضا رضوی فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487
  1. حضرت والا قرآن و احادیث سے استدلال کریں یہی دین کی اساس و بنیاد ہے

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only