ایک دن میں موت کو کتنی مرتبہ یاد کرنا چاہئیے

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حدیثوں میں آیا ہے کہ دن بھر میں موت کو کم سے کم ٢٠ بار یاد کرو۔ برائے مہربانی یہ بتایا جائے کہ موت کو یاد کیسے کیا جائے ؟ کیا صحیح طریقہ ہے ؟

  سائل محمد غلام سرور آرہ ممبر آف گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ 

الجـــــــواب بعون الملکـــــ الوھاب 

 اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجىد میں ارشاد فرماتا ہے کہ كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ ترجمہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے (پارہ ۱۷ سورة الانبىا) اور جیسا کہ حدىث مبارکہ حضرتِ سىدناابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے حضور ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ عقلمند و دانا وہ مومن ہے جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے اور اس کے لئے احسن طرىقے پر تیاری کرے (شعب الاىمان الحدىث 1054 صفحہ 350) حضرت سىدتنا کعب الاحبار علیہ الرحمۃ الغفار فرماتے ہیں جو شخص موت کو پہچان لیتا ہے اس پر دنیا کى مصیبتیں اور غم ہلکے ہوجاتے ہیں ( احیاء العلوم جلد ۵ صفحہ ۴۸۰ ) اعلىٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر موت ذکرِ خىر ذکر آخرت ذکر انبىا و ذکرِ اولیائے علیہم افضل الصلوة والثنا سب ذکر الہى ہىں ( فتاوىٰ رضویہ مخرجہ جلد09 صفحہ ۱۵۶ ) اور جیسا کہ احیا العلوم میں ہے کہ جو دن رات میں بیس مرتبہ موت کو یاد کرے اسے شہدوں کے ساتھ اٹھاىا جائے گا۔ موت کو زیادہ یاد کرو کہ یہ گناہوں کو مٹاتى اور دنیا سے بے رغبت کرتى ہے۔ نصیحت کے لئے موت ہى کافى ہے موت کو زیادہ یاد کرنے اور اس کى زیادہ تیارى کرنے والے لوگ عقلمند ہیں ہر حال مىں موت کو یاد کرتے ہىں ثواب اور فضىلت ہے اور یہ ثواب اور فضیلت دنیا میں مگن شخص بھى موت کو یاد کرکے پاسکتا ہے( احیا العلوم جلد 05/ صفحہ 488 ) نوٹ موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ موت کو یاد کرے اس گھڑی کو یاد کرے قبر کے منظر کو یاد کرے حشر کو یاد کرے اور حساب و کتاب ان سب چیزوں کو یاد کرکے خوف الہی میں محو ہو جانا موت کو یاد کرنا ہے پھر اس خیالات میں جائے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا کیسے حساب کتاب ہونا ہے کیسے منکر نکیر کے سوالو کے جواب دینے ہیں وغیرہ وغیرہ 

واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے