کیا عورت نائٹى پہن کر نماز پڑھ سکتی ہے ؟؟؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام عورت نائٹى پہن کر نماز پڑھ سکتى هے یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل محمد عمران علی الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ 

الجواب بعون الملک الوہاب 

نماز میں ستر عورت شرط ہے اگر ناٸٹی سے ستر پوشی ہو جاتی ہے تو نماز ادا کرنا بالکل جاٸز ہوگا ورنہ نہیں اور عورتوں کا سواٸے چہرہ اور ہتھیلی کے تمام بدن کا چھپانا فرض ہے جیساکہ ہدایہ میں ہے بدن الحرة کلھا عورة الا وجھھا و کفیھا آزاد عورت کے چہرے اور ہتھیلی کے علاوہ تمام بدن ستر ہے ( ہدایہ مترجم جلد دوم ص ١١٠ مکتبہ شبیر برادرز لاہور ) اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمة اللہ علیہ بحولہ در مختار تحریر فرماتے ہیں کہ آزاد عورتوں اورخنثیٰ مشکل کے لیے سارا بدن عورت ہے سوا مونھ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے سر کے لٹکتے ہوئے بال اور گردن اور کلائیاں بھی عورت ہیں ان کا چھپانا بھی فرض ہے ( بحوالہ الدرالمختار کتاب الصلاۃ باب شروط الصلاۃج۲ صفحہ نمبر ۹۵ حوالہ بہار شریعت حصہ دوم دوسری شرط ستر عورت کا بیان ) 

و اللہ اعلم باالصواب 

کتبہ الفقیر محمد جابر القادری رضوی اڑیسہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے