پیارے نبی ﷺ کو اے محمد ﷺ کھنا کیسا ہے

السلام علیکم۔ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پیارے نبی ﷺ کو اے محمد ﷺ کھنا کیسا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔


 سائل محمد عامر رضا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

نبی اکرم ﷺ کو یا محمد (اے محمد) کہہ کر پکارنا ناجائز وحرام ہے فتاویٰ فیض الرسول میں ہے سرکار اقدسﷺ کے ذاتی نام محمد کے پہلے یا (اے) لگا کر پکارنا حرام وناجائز ہے قرآن مجید پارہ ۱۸ رکوع ۱۵ میں ہے لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا یعنی رسول ﷺکا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہ اے زید! اےعمر بلکہ یوں عرض کرو یا رسول اللہ یا نبی اللہ ۔ابو نعیم حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کانوا یقولون یامحمد یا ابا القاسم فنھٰھم اللہ عن ذالک اعظاما لنبیہ ﷺ فقالوا یا نبی اللہ یا رسول اللہ یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعظیم کے لئے اس سے منع فرمایا اس وقت سے صحابہ کرام یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہا کرتے اور بیہقی امام علقمہ سے امام اسود اور ابو نعیم امام حسن بصری اور امام سعید بن جبیر سے آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ لاتقولوا یا محمد ولکن قولوا یارسول اللہ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہو اسی لئے علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کو ذاتی نام لے کر ندا کرنی حرام ہے اور بے شک یہی ہونا بھی چاہئے اس لئے کہ جب اس کا مالک ومولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے تو امتی کی کیا مجال کہ وہ راہ ادب سے تجاوز کرے بلکہ زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے نے فرمایا کہ اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود نبی اکرم ﷺ نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے یا محمد انی توجھت بک الیٰ ربی تاہم اس کی جگہ یارسول اللہ یا نبی اللہ کہنا چاہئے ھکذا قال الامام احمد رضا البریلوی قدس سرہ فی تجلی الیقین بان نبیا سید المرسلین صلوٰت اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین (فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۴۸۵)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ غلام محمد صدیقی فیضی متعلم دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے