کیا دودھ پلانے سے عورت کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت اگر اپنے بچے کو دودھ پلائے تو کیا اسکا وضو ٹوٹ جاتا ہے مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل احقر کمال نینی تال الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

بچے کو دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس وجہ سے کہ پاک رطوبتیں جو بدن سے عادۃً نکلتی ہیں، وہ ناقض وضو نہیں ہے فتاوی رضویہ میں ہے (ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لا ینقض ایضاً اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لا‌ ینقض فأذا فحش جدا کما فی بحران الحموم او بعض الامراض لم ینقض ایضاً وکزالک الدمع واللبن والریق-اھ) یعنی جو چیزعادۃً خارج ہوتی ہو اور ناقض نہ ہو وہ خواہ کتنی ہی مقدار میں کیوں نہ ہوں ناقض وضو نہ ہوگی٠ اور وہ خواہ بیماری ہی کیوں نہ سمجھی جائے جیسے پسینہ وضو کو نہیں توڑتا ہے اب اگر یہ بہت زائد ہو جائے جیسے بخار کی صورت میں اور بعض دوسرے امراض میں تو بھی ناقض وضو نہ گا یہی حال آنسو، دودھ تھوک کا بھی ہے {جلد 1 صفحہ نمبر  440} ( فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 97)(فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۵/ صفر المظفر ١٤٤٢ہجری ۲۳/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز چہار شنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ