اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

دیوبندی گستاخ رسول سے خرید و فروخت کرنا جائز ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی بد مذہب وہابی دیوبندی گستاخ رسول سے خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں نیز اگر کسی صورت میں اس سے خرید و فروخت کر لی تو اب وہ سامان یا مال ہمارے لئے جائز ہے یا ناجائز 

محمد نثار بنارس یوپی انڈیا ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

اگر دیوبندی وہابی کے یہاں خریدو فروخت کرنے پر اس بات کا اندیشہ ہو کہ ہمیں ان کی تعظیم کرنی ہوگی سلام و کرناپڑےگا یا ان کے ساتھ کھانا پینا پڑے گاتو جائز نہیں کیونکہ یہ دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا سلام علیک کرنا ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام نہ ان کی نوکری کرنے کی اجازت نہ انہیں نوکررکھنے کی اجازت کہ ان سے دور بھاگنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا حکم ہےجیسا کہ حدیث شریف میں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۱؎ان سے بچو انہیں دور رکھو تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں نہ فتنہ میں ڈال سکیں۔(حوالہ فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص ۴۱۳ دعوت اسلامی) اور اگر مذکورہ بالا باتین نہ پائی جائے تو خریدو فروخت جائز ہے ورنہ نہیں

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری۱۲ صفر المظفر ۱۴۴۲ ہجری ۳۰ ستمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز بدھ

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست