کیا جس مسجد میں وہابیوں کا پیسہ لگا ہو اس میں نماز درست نہیں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبر کا تہ 

جملہ اہل علم حضرات سے گذا رش ہے کہ ایک بڑی مسجد ہے جس میں تقریبا بیس یا پچیس لا کھ رو پے خرچ ہوا اور اس میں چار لا کھ رو پے دیو بندیوں نے لگا یا ہے اور لگا نے کے وقت سنی کے ہاتھ میں دیا اور سنی نے اپنی مر ضی سے خرچ کیا اور اب دیوبندی کو منافق کہا جا رہا ہے تو وہ دعوا کر رہا ہے کہ میں مسجد میں پیسہ دیا ہوں تو کیا تمہا ری نما ز اس مسجد میں درست ہو تی ہے جس میں دیوبندی اور منافق نے پیسہ لگا یا ہو اب آپ حضرات با حوا لہ جوا ب عنا یت فر ما ءیں کہ سنی کی نما ز سنی اما م کے پیچھے اس مسجد میں درست ہو تی ہے یا نہیں

 سائل اسرار احمد فدا بیگھہ ضلع اورنگ با د بہا ر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں نماز ادا ہو جائے گی کیونکہ مسلمان کے لئے پورے روئے زمین مسجد ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہےالارض کلھا مسجد یعنی: رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام روئے زمین مسجد ہے ( مشکوة شريف صفحہ نمبر 71 )) حوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر 149 لیکن سنیوں کو چاہئے تھا کہ خود اپنا روپیہ لگائے کسی دیوبندی وغیرہ سے پیسہ نہ لیں۔اب جب لگا دیا ہے تو بھی اس میں نماز ہو جائے گی۔جیسا کہ حدیث پاک سے واضح ہے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری03 صفر المظفر 1442 ہجری 20 ستمبر 2020عیسوی بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے