ناک سے پانی نکلتا ہو تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا سردی ہونے کی وجہ سے ناک سے پانی نکلتا ہو تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ حالتِ نماز میں ناک سے پانی بہے تو کیا کرے ؟ اور وضو کا حکم فرمائیں۔

سائل عبد الخالق 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

ناک سے نکلنے والی رطوبت پاک ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے کیونکہ وہ نواقض وضو میں سے نہیں ہے( ماخوذ بہار شریعت حصہ دوم وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) حالتِ نمازمیں اگر ناک سے رطوبت نکلے تو اسے صاف کرنے کا بہتر طریقہ ہے کہ پاس میں ٹیشو پیپر رکھے یا پھر کوئی رومال اور اسی سے صاف کر لیا کرے، لیکن ایک بات کا خاص خیال رکھے کہ ایک رکن میں مثلاً قیام میں یا قعدہ میں تین بار نہ صاف کرے ورنہ نماز فاسد ہوجائے گی ( کتب فقہ ) خلاصہ کلام یہ ہےکہ ناک کی رطوبت ناپاک نہیں ہے اور نا ناقض وضو ہے 

ھذا ماظھرلی وھو سبحانہ وتعالیٰ واحکم واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۲۵/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۱٤/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز دوشنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے