سود لیکر کسی غریب کو دینا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

سوال اگر سود لیکر کسی غریب کو وہ سود کا مال دان کر دیں۔ تو عندالشرع ایسا کرنا جائز ہے یا نا جائز مع حوالہ جواب دیں -اور داخل حسنات ہوں

سائل محمد عطا اللّٰه رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

سود لینا دینا دونوں حرام ہے سود کے متعلق احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں چونکہ حرام سے بچنا فرض ہے اور غریبوں میں دان کرنا مستحب ہے لہذا غریبوں میں دان کے لیے سود لینا سخت ناجائز وحرام ہے اور ثواب سمجھ کر دان کرے تو یہ کفر بھی ہے، جیسا کہ سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلاً جائزنہیں، نیک کام ہو یا اور سوا اس کے کہ جس سے لیا اُسے واپس دے یافقیروں پرتصدّق کرے۔ بغیر اس کے کوئی حیلہ اُس کے پاک کرنے کانہیں اُسے خیرات کرکے جیساپاک مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہے بلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدّق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے( فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 581 رضا فاؤنڈیشن لاہور وھکذا احکام شریعت حصہ اول صفحہ 128شبیر برادرز لاہور 


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۲۸/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۱۷/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروزپنجشنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے