نماز اشراق سنت ہے یا مستحب

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز اشراق سنت ہے یا مستحب برائے مہربانی توجہ فرمائیں عین نوازش ہوگی 


سائل تنویر حسین کٹیہاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

نماز اشراق بعد نماز فجر طلوع آفتاب کے کم از کم بیس منٹ بعد دو رکعت پڑھنا سنت غیر مؤکدہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر ذکر الٰہی کرتا رہے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے پھر دو رکعت نماز اشراق پڑھے تو اسے پورے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ( ترمزی شریف جلد اول صفحہ ٧٦

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ ٢٧ محرم الحرام ١٤٤٢ // ١٦ ستمبر ٢٠٢٠

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. الو کو منحوس پرندہ تصور کرنے والے کا انجام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم


    کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
    کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
    کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟

    الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں

    ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
    وہ قصبہ یہ
    ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
    پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
    الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
    پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
    الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟

    الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
    وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟

    الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
    الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
    الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "

    حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
    الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"

    اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں

    (ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )

    فقہی مسائل
    فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
    لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں

    حوالہ جات

    فتاوی قاضی خان؛

    حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684

    آداب شریعت

    کتبہ
    ( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ