نابالغ بچہ وصال کر جائے تو اسکے نام سے عقیقہ کیا جائے گا یا نہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ جو بچہ لڑکا یا لڑکی پیدا ہو کر ہفتہ سے کم یا ہفتہ سے زیادہ کی دن سے یا کم عمر میں مرے ان کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل سلیم عطاری نیپال
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

مردےکی طرف سے عقیقہ نہیں ہوسکتا چاہےوہ دوروزکےبعدانتقال کیاہو یااس سے پہلے جیساکہ مجدداعظم اعلی حضرت امام احمدرضاعلیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں تحریرفرماتے ہیں مردے کاعقیقہ نہیں کہ وہ شکرولادت ہے بخلاف قربانی کےکہ ایصال ثواب ہےسات دن سے پہلے مرگیا تو ابھی عقیقہ کاوقت ہی نہ آیاتھا۔اوربعدکومراتوعقیقہ گیا اسی میں دوسرےصفحہ پر ہے جومرجائےکسی عمرکاہو اس کاعقیقہ نہیں ہوسکتا بچہ اگرساتویں دن سے پہلےہی مرگیاتووقت ہی نہ آیاتھااوربعدکومراتوعقیقہ گیا ( فتاوی رضویہ جلد/٨ صفحہ نمبر/٥٤٦/٥٤٧ ) فتاوی امجدیہ میں ہے مردہ کاعقیقہ نہیں ہوسکتا کہ دم شکرہےاور یہ شکرانہ زندہ ہی کےلئے ( جلدنمبر/٣ صفحہ نمبر/٣٣٦ ) لہذامردہ بچہ کی جا نب سے عقیقہ درست نہیں ہے ( ماخوذازفتاوی مصدقات محدث کبرصفحہ نمبر /١٠١

واللہ اعلم بالصواب

کتپہ محمدالطاف حسین قادری عفی عنہ خادم التدریس دارالعلوم غوث الوری ڈانگالکھیم لکھیم پورکھیری یوپی موبائیل/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے