مسلمانوں کو شراب کا کاروبار کرنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کوئ مسلمان شراب کا کاروبار کرسکتا ہے جبکہ یہ حرام فعل ہے ہمارے یہاں کہا جاتا ہیکہ کافروں سے شراب کی تجارت کر سکتے ہیں کیا یہ صحیح ہے

سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب ھوالھادی الی الصواب  

 مسلمانوں کو کسی کے ساتھ شراب کا کاروبار کرنا حرام ہے فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے شراب کابنانا بنوانا چھونا اٹھانا رکھنا ‌رکھوانا بیچنا بکوانا مول لینا لوانا سب حرام حرام حرام ہے اور جس نوکری میں یہ کام یا شراب کی نگاہداشت اس کے داموں کا حساب کتاب کرنا‌ ہو سب شرعاً ناجائز ہیں قال اللہ تعالیٰ لاتعاونواعلی الاثم والعدوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لعن اللہ الخمر وشاربھا وساقیھا وبئعھا ومتباعہا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ وآکل ثمنھا رواہ ابوداؤد والحاکم وصححہ عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما (جلد  9  صفحہ نمبر 128) قدیم نصف آخر ) 

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

کتبہ عبدالستار رضوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ دارالعلوم ارشدالعلوم عالم بازار کلکتہ 9 محرم الحرام 1442ھ بمطابق 29 اگست 2020ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے