عورتوں پر غسل کس کس موقع پر واجب ہوتا ہے

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

میرا سوال یہ ہے کہ عورتوں پر غسل کس کس موقع پر واجب ہوتا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل محمد شہریار رضا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

جن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے وہ پانچ چیزیں ہیں(1) مَنی کا اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوکر عُضْوْ سے نکلنا سببِ فرضیتِ غُسل ہے (2) اِحْتِلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے(3) حَشفہ یعنی سرِ ذَکر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونادونوں پر غُسل واجب کر تا ہے، شَہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو بشرطیکہ دونوں مکلّف ہوں اور اگر ایک بالغ ہے تو اس بالغ پر فرض ہے اور نابالغ پر اگرچہ غُسل فرض نہیں مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا، مثلاً مرد بالغ ہے اور لڑکی نابالغ تو مرد پر فرض ہے اور لڑکی نابالغہ کو بھی نہانے کاحکم ہے اور لڑکا نابالغ ہے اور عورت بالغہ ہے تو عورت پر فرض ہے اور لڑکے کو بھی حکم دیا جائے گا (4) حَیض سے فارغ ہونا(5) نِفاس کا ختم ہونا (بہار شریعت جلد اول حصہ دوم کن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے) 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۱٤/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۳ / ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے