ایک ہی قبر میں دو مردے دفن کرنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پرانی قبر ہے جس کو تقریبا پچاس سال ہو چکے ہے اب اسی قبر میں دوسرے مردے کو دفن کرنا کیسا ہے؟ مفصل جواب عنایت فرمائے کرم نوازی ھوگی

سائل محمد توصیف عالم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں اگر قبر اتنی پرانی ہوگئی ہے کہ اس میں مدفون مردہ مٹی بن چکا ہو تو ایسی صورت میں دوسرے مردے کو دفن کرنا درست ہوگا، اوراگر قبر کھودنے پر پہلی میت کی ہڈیاں یا دیگر کوئی باقیات ملیں تو احترام کے ساتھ یکجا کرکے قبر کی ایک طرف دفن کر دی جائیں گی اور نئی میت اور ان ہڈیوں کے درمیان مٹی کی آڑ بنا دی جائے گی رد المختار میں ہے قَالَ فِی الفَتَح وَلَا يُحْفَرُ قَبْرٌ لِدَفْنِ آخَرَ إلَّا إنْ بَلِيَ الْأَوَّلُ فَلَمْ يَبْقَ لَهُ عَظْمٌ. إلَّا أَنْ لَا يُوجَدَ فَتُضَمُّ عِظَامُ الْأَوَّلِ وَيُجْعَلُ بَيْنَهُمَا حَاجِزٌ مِنْ تُرَابٍ اور دوسری دفعہ دفن کرنے کے لیے قبر کو نہ کھودا جائے سوائے اس صورت کے جب پہلی میت بوسیدہ ہو جائے اور اس کی ہڈیاں باقی نہ رہی ہوں۔ اگر تدفین کے لیے کوئی جگہ نہ ملے تو پہلے کی ہڈیاں بھی اسی قبر میں ساتھ ملا دی جائیں گی اور درمیان میں مٹی کی آڑ بنا دی جائے گی ( ردالمحتار،جلد ۲ صفحہ ۲۳۳ بيروت دار الفكر) معلوم ہوا کہ فقہاء نے پرانی اور بوسیدہ قبر کو کھولنے اور اس میں دوسری میت کی تدفین کرنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ اگر کسی قبر میں دفن میت کا جسم گل جانے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی ہونے کا یقین ہو تو اس قبر میں بوقت ضرورت دوسری میت کو دفنانا جائز ہے، اور اگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی قبر کھولنے پر پہلی میت کا جسم مکمل اور تازہ رہے تو فوراً قبر بند کردی جائے اور اس میں تدفین نہ کی جائے

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی متعلم(درجہ تحقیق سال دوم) دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند ۱/ صفر المظفر ۱۴۴۲ ہجری بروز سنیچر

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ