10.26.2020

عورت کو منگل سوتر پہننا کیسا ہے



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر عورت کے پاس ایک زیور ہو جسے منگل ستر کہتے ہیں اس کی شرع میں کیا حیثیت ہے برائے مہربانی جواب بحوالہ عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ؟


المستفتی محمد زاھد کلیان مہاراشٹر

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر یہ زیور اس علاقے میں غیر مسلم عورتوں کا شعار ہے تو پہننا ناجائز و مکروہ ہے لیکن جن علاقوں میں غیر مسلم عورتو کا شعار نہ ہو تو مسلمان عورتوں کو پہننا جائز ہے جیساکہ حضور محقق مسائل جدیدہ سراج الفقہا مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی صاحب قبلہ تحریر فرماتے ہیں اگر یہ زیور کسی علاقے میں غیر مسلم عورتوں کا شعار ہوکہ اس علاقے میں وہی پہنتی ہیں اور کوئ عورت منگل سوتر پہنتی ہوئ دیکھے تو یہ سمجھا جائے کہ وہ غیر مسلم ہے تو اس علاقے میں مسلمہ عورتوں کو منگل سوتر پہننا مکروہ و ناجائز ہے حدیث شریف میں ہے کہ من تشبہ بقوم فھو منھم اور جن علاقوں میں یہ غیر مسلم عورتوں کا شعار نہ ہو تو وہاں مسلمان عورتوں کو ایسا زیور پہننا جائز ہے اور اس میں کوئ کراہت نہیں کہ زیور بجائے خود مباح ہے اھ (سراج الفقہا کی دینی مجالس ص 142 کتاب الخطر الاباحتہ )


واللہ اعلم باالصواب 


کتبہ محمد ریحان رضا رضوی فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیاموبائل نمبر 6287118487

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only