11.09.2020

کیا جل کر مرنے والا بھی شہید کہلاتا ہے



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جل کر مرنے والا بھی شہید کے حکم میں ہے یا نہیں مع حوالہ براہ کرم اس کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔

 

            المستفتی محمد زاھد کلیان مہاراشٹر 

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

یقیناً جوجل کر مرجائے وہ شہید ہے مگر شہید حکمی کے حکم میں ہے. (شہید حکمی وہ ہےجو ظلما قتل نہیں کیاگیا) حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی اکرم جب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیے جانے کے علاوہ سات شہادتیں اور ہیں. 1)جوطاعون میں مرے شہید ہے2)جو ڈوب کر مرجائے شہید ہے.3)جو ذات الجنب(نمونیہ) میں میں مرے شہید ہے4) جو پیٹ کی بیمار میں مرجائے شہید ہے 5)جو آگ میں جل جائے شہید ہے6)جوعمارت کے نیچے دب کرمرجائے وہ شہید ہے7)اور جوعورت بچہ کی پیدائش کے وقت مرجائے وہ بھی شہید ہے (بحوالہ مشکوۃ شریف ص136/خطبات محرم ص22)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ گدائے مخدوم ورضا خلیفہ حضور شیخ الاسلام، حضور قائد ملت ومفتی انوار الحق خلیفہ حضور مفتی اعظم ھندرضی اللہ عنہ بریلی شریف ابوضیاغلام رسول مہرسعدی کٹیہاری (مقیم بلگام کرناٹک انڈیا)

٩ربیع الاول 1442ھ بروز منگل بمطابق 27 اکتوبر 2020ء

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only