11.26.2020

اگر چور چوری کر رہا ہو تو کیا نماز ٹوڑ سکتے ہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

نماز کی حالت میں چور نمازی کے آگے سے موبائل بیگ یا پرس وغیرہ قیمتی چیز چرا رہا ہے تو کیا صورت ہوگی اپنے سامان کی حفاظت کے لئے کیا نماز ٹوڑ سکتے ہیں یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

المستفتی محمد زاھد کلیان مہاراشٹر

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

صورت مسؤلہ میں نماز توڑنا جائز ہے کیوں کہ موباٸل ودیگر اموال کی قیمت ایک درھم سےکٸ گنا زائد ہے شریعت نےتوایک درھم کےبرابرمال چوری ہوجانے کےاندیشہ سےبھی نمازتوڑنےکی اجازت دی ہےگرچہ مال دوسرےکاہی کیوں نہ ہوجیساکہ نورالایضاح صفحہ ٩٦پر ہے

یجوزقطعھا(الصلوة)بسرقةیساوی درھما ولولغیرہ نیز بہارشریعت میں ہےاپنے یا پرائے ایک درھم کے نقصان کا خوف ہو مثلا دودھ ابل جائے گا یا گوشت ترکاری روٹی جل جانے کا خوف ہو یا ایک درھم کی کوئی چیز چور اچکا لے بھاگا توان صورتوں میں نماز توڑنے کی اجازت ہے(حصہ ٣ صفحہ ٦٣٧ مکتبہ مدینہ دھلی)


واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبید اللہ رضوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف 09 ربیع الثانی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only