کیا حاملہ عورت سے جماع کرنا جائز ہے

 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنی زوجہ سے کب تک جماع کر سکتے ہیں یعنی کہ اگر حمل ٹھہر جائے تو کیا جماع نہیں کر سکتےبرائے مہربانی توجہ بالخصوص توجہ فرمائیں عین نوازش ہوگی


المستفتی محمد فیضان رضا قادری حبیب پور الھنـــد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ 

الــــجواب الھم ہدایت الحق والصواب 

قرینہ زندگی میں ہے کہ عورت جب حمل سے ہو تو اس حالت میں جماع کرنے کی شریعت میں ممانعت نہیں ہے بلاکراہت جائز ہے لیکن اطباء کے نزدیک جماع نہ کرنا بہتر ہے کہ اس سے نئے حمل ٹھہرنے کا امکان ہے اور پہلے بچے کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے (بحوالہ قرینہ زندگی صفحہ نمبر 214) اور مفتی محمد خلیل خان القادری البرکاتی النوری مارھروی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ دوران حمل سے وضع حمل تک, مباشرت شرعاً جائز ہے لیکن اگر ڈاکٹر منع کردیں یا تکلیف کا خطرہ ہو تو پرہیز کرنا چاہیےحوالہ احسن الفتاویٰ المعروف فتاویٰ خلیلیہ جلد اول صفحہ نمبر 564


واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کتبـــــــــــــــــــــــــــہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ مجھے WhatsApp
    گروپ میں شامل فرما لیجئے مہربانی ہوگی 7237025045

    جواب دیںحذف کریں
  2. مجھے بھی گروپ میں ایڈ کر دیں

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ